MOJ E SUKHAN

دل سلسلۂ شوق کی تشہیر بھی چاہے

دل سلسلۂ شوق کی تشہیر بھی چاہے
زنجیر بھی آوازۂ زنجیر بھی چاہے

آرام کی صورت نظر آئے تو کچھ انساں
نیرنگ شب و روز میں تغییر بھی چاہے

سودائے طلب کو نہ توکل کے عوض دے
یہ شرط تو خود خالق تقدیر بھی چاہے

لازم ہے محبت ہی محبت کا بدل ہو
تصویر جو دیکھے اسے تصویر بھی چاہے

اک پل میں بدلتے ہیں خد و خال لہو کے
آنکھ اپنے کسی خواب کی تعبیر بھی چاہے

لہجہ تو بدل چبھتی ہوئی بات سے پہلے
تیر ایسا تو کچھ ہو جسے نخچیر بھی چاہے

تاثیر سے خالی تو سخن ننگ ہے گوہرؔ
شاعر کو عطا ہو سند میرؔ بھی چاہے

گوہر ہوشیارپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم