MOJ E SUKHAN

گپ کی افراط کا ڈر دونوں طرف ہے

گپ کی افراط کا ڈر دونوں طرف ہے
بات بے بات کا ڈر دونوں طرف ہے !

ہے یہ اک لمحہء مخصوص کی برکت
فرط جذبات کا ڈر دونوں طرف ہے

گو کہ رکھتے ہیں ستم میں ید طولی
کچھ مراعات کا ڈر دونوں طرف ہے

جس سے ہر راہ ہو مسدود ملن کی
اس ملاقات کا ڈر دونوں طرف ہے

بات ہو عشق کی یا حسن کی نوشی !
وقت سے مات کا ڈر دونوں طرف ہے

نوشین فاطمہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم