MOJ E SUKHAN

ذکر شب کے سعید ہو گئے کیا

ذکر شب کے سعید ہو گئے کیا
سحر سائے بعید ہو گئے کیا

درد کن سے کشید ہو گئے کیا
خواب شب سے خرید ہو گئے کیا

زندگی کیوں ہے لرزہ بر اندام
زلزلے بھی شدید ہو گئے کیا

کوئی باقی نہیں طلسم جمال
عشق والے شہید ہو گئے کیا

ادب آداب کے زمانے گئے
سلسلے کچھ مزید ہو گئے کیا

ہجر ہجرت ملال غم آثار
زندگی کی نوید ہو گئے کیا

نہ کوئی مصلحت نہ بے باکی
فرد فرحتؔ فرید ہو گئے کیا

ڈاکٹر فرحت عباس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم