MOJ E SUKHAN

وہ یہ کہہ کہہ کے جلاتا تھا ہمیشہ مجھ کو

وہ یہ کہہ کہہ کے جلاتا تھا ہمیشہ مجھ کو
اور ڈھونڈے گا کہیں میرے علاوہ مجھ کو

کس قدر اس کو سرابوں نے ستایا ہوگا
دور ہی سے جو سمجھتا رہا چشمہ مجھ کو

میری امید کے سورج کو ڈبو کے ہر شام
وہ دکھاتا رہا دریا کا تماشہ مجھ کو

جب کسی رات کبھی بیٹھ کے مے خانے میں
خود کو بانٹے گا تو دے گا مرا حصہ مجھ کو

پھر سجا دے گا وہ یادوں کے عجائب گھر میں
سوچ کر عہد جنوں کا کوئی سکہ مجھ کو

میرے احساس کے دوزخ میں سلگنے کے لئے
چھوڑ دے گا مرے خوابوں کا فرشتہ مجھ کو

پھر یہ ہوگا کہ کسی دن کہیں کھو جائے گا
اک دوراہے پہ بٹھا کے مرا رستہ مجھ کو

لوگ کہتے ہیں کہ جادو کی سڑک ہے ماضی
مڑ کے دیکھوں گی تو ہو جائے گا سکتہ مجھ کو

سبز موسم کی عنایت کا بھروسا بھی نہیں
کب اڑا دے یہ ہوا جان کے پتا مجھ کو

وقت حاکم ہے کسی روز دلا ہی دے گا
دل کے سیلاب زدہ شہر پہ قبضہ مجھ کو

میں نہ لیلیٰ ہوں نہ رکھتا ہے وہ مجنوں کا مزاج
اس نے چاہا ہے مگر میرے علاوہ مجھ کو

عزیز بانو دراب وفا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم