MOJ E SUKHAN

شوق کو بے ادب کیا عشق کو حوصلہ دیا

شوق کو بے ادب کیا عشق کو حوصلہ دیا
عذر نگاہ دوست نے جرم نظر سکھا دیا

آہ وہ بد نصیب آہ نالۂ عندلیب آہ
میرا فسانۂ الم جیسے مجھے سنا دیا

ٹوٹ سکا نہ پستئ فکر و نظر کا سلسلہ
دام نہ قفس کو ہم نے خود دام و قفس بنا دیا

میرے مذاق دید کی شرم اسی کے ہاتھ ہے
جس نے شعاع حسن کو حسن نظر بنا دیا

ناز و نیاز آشنا تغافل اعتبار
ہائے کس اہتمام سے تم نے مجھے مٹا دیا

خوب علاج کر دیا اپنے مریض عشق کا
درد مٹانے آئے تھے درد دیا مٹا دیا

ہائے وہ حسن و عشق جب باسطؔ بیقرار کو
برق نگاه دوست نے پھونک دیا جلا دیا

باسط بھوپالی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم