MOJ E SUKHAN

غنچہ دہن وہی ہے کہ گونگا کہیں جسے

غنچہ دہن وہی ہے کہ گونگا کہیں جسے
ہے سرو قد وہ اصل میں لنگڑا کہیں جسے

معشوق چاہیے کہ ہو ایسا سیاہ فام
مجنوں میاں بھی دیکھ کے لیلیٰ کہیں جسے

مے کو جو اصطلاح میں کہتے ہیں دخت رز
وہ مغبچہ ہے رندوں کا سالا کہیں جسے

سب جانور نہ حضرت انساں سے کیوں ڈریں
پیدا ہیں اس کے پیٹ سے حوا کہیں جسے

سب انگلیاں جھکا کے انگوٹھا اٹھائیے
بن جائے گی وہ شکل کہ ٹھینگا کہیں جسے

ظریف لکھنوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم