MOJ E SUKHAN

ہم ایک ایسی اندھیر نگری سے منسلک ہیں

ہم ایک ایسی اندھیر نگری سے منسلک ہیں
جہاں مسائل کے بھید کرسی سے منسلک ہیں

ہمارے پیروں میں بیڑیاں ہیں ملازمت کی
ہمارے وعدے ہماری چھٹی سے منسلک ہیں

اس ایک نکتے پہ ساری سائنس کھڑی ہوئی ہیں
کہ فارمولے خدا کی مرضی سے منسلک ہیں

تماش بینوں کی خواہشوں میں ہیں جسم رقصاں
مگر جو آنکھیں اداس کھڑکی سے منسلک ہیں

ہماری باتیں ، ہماری غزلیں ، ہماری ، نظمیں
اداس نسلوں کی رائیگانی سے منسلک ہیں

ہم ان بہادر سپاہیوں کی مثال ہیں جو
سروں کی بنیاد پر کہانی سے منسلک ہیں

ہمیں محبت سکھا رہے ہیں لطیف ساجد
جو ہیرو شیما و ناگاساکی سے منسلک ہیں

لطیف ساجد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم