MOJ E SUKHAN

جنگل بہت اداس تھا رنگوں کی آس میں

جنگل بہت اداس تھا رنگوں کی آس میں
تتلی نے پر اتار دئۓ اپنے گھاس میں

اس نے تو صرف کھال اتاری تھی جسم سے
کیڑوں نے گھر بنا لۓ ہیں میرے ماس میں

دریا کو پی گیا ہے فقط ایک گھونٹ میں
صحرا کی تشنگی تھی سمندر کی پیاس میں

پتھر کا خوف ایسا تھا کہ ٹو ٹنے لگے
رکھے تھے جتنے پھول سجا کر گلاس میں

عرفان اپنے زخم چھپانے کے واسطے
لپٹا ہوا ہے جسم لہو کے لباس میں

عرفان خانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم