MOJ E SUKHAN

عمر بھر ایک سی الجھن تو نہیں بن سکتے

عمر بھر ایک سی الجھن تو نہیں بن سکتے
دوست بن جائیں کہ دشمن تو نہیں بن سکتے

ہم کو معلوم ہے تم کیا نہیں بن پاتے ہو
دھوپ بن جاتے ہو ساون تو نہیں بن سکتے

میں نے دیکھا ہے وہ انسان تمہارے اندر
رام بن جاؤ گے راون تو نہیں بن سکتے

نقد سانسوں کے لئے دل سے محبت کرنا
ہم کبھی قرض کی دھڑکن تو نہیں بن سکتے

ہر شکن آج ہے بستر کی تمہاری خاطر
تم مرے چین کے دشمن تو نہیں بن سکتے

روز اک جیسی اداکاری نہ ہوگی ہم سے
تم بھی اک رات کی دلہن تو نہیں بن سکتے

ایک جیسی تو نہیں ہوتی ہے ساری دنیا
سب ترے روپ کا درپن تو نہیں بن سکتے

میں ہی بن جاؤں گا کچھ دیر کو ان کے جیسا
میرے بچے مرا بچپن تو نہیں بن سکتے

حق طلب کرتے ہیں بخشش تو نہیں مانگتے ہیں
ہم تری بھیک کا برتن تو نہیں بن سکتے

ف س اعجاز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم