MOJ E SUKHAN

پھولوں کی طرح خوب نہ کانٹوں کی طرح ہیں

پھولوں کی طرح خوب نہ کانٹوں کی طرح ہیں
گلشن میں چمکتے ہوئے غنچوں کی طرح ہیں

مت چھیڑ ہمیں ایسے کہ شعلوں کو ہوا دیں
جو پیار سے دیکھیں گے گلابوں کی طرح ہیں

راتوں کو اگر نیند کے درپن میں سجا لیں
آنکھوں میں شبِ وصل کے خوابوں کی طرح ہیں

پیمانے یہاں جام کے آنکھوں سے چھلکتے
بھر پور نشہ جن میں شرابوں کی طرح ہیں

تو اپنے سوالوں کے پُلندے کو ادھر کھول
ہم دل کی عدالت میں جوابوں کی طرح ہیں

مبہم کبھی رکھتے نہیں ہم دل کے دریچے
دنیا کی نگاہوں میں کتابوں کی طرح ہیں

جگنو کی طرح کیسے ہمیں قید کرو گے
راتوں کو بھی تابش ہیں اجالوں کی طرح ہیں

تابش رامپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم