MOJ E SUKHAN

جسم رنگیں قبا کی صورت ہے

جسم رنگیں قبا کی صورت ہے
دل، مگر اک خلا کی صورت ہے

چھوڑ رکھا ہے مانگنا ہم نے
اب دعا، بددعا کی صورت ہے

دورِ فرعون لوٹ آیا ہے
ہر کوئی یاں خدا کی صورت ہے

شب گزرتی ہے جلتے بجھتے ہوئے
جو دیا ہے، ہوا کی صورت ہے

اک کھلی جیل اُس کی مرضی کی
زندگی تو سزا کی صورت ہے

میں بھی پتھر صدا بھی پتھر ہے
راہ، کوہِ ندا کی صورت ہے

سخت مٹی کو کچھ تو نرم کیا
مجھ میں کچھ تو گھٹا کی صورت ہے

قیوم طاہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم