جسم رنگیں قبا کی صورت ہے
دل، مگر اک خلا کی صورت ہے
چھوڑ رکھا ہے مانگنا ہم نے
اب دعا، بددعا کی صورت ہے
دورِ فرعون لوٹ آیا ہے
ہر کوئی یاں خدا کی صورت ہے
شب گزرتی ہے جلتے بجھتے ہوئے
جو دیا ہے، ہوا کی صورت ہے
اک کھلی جیل اُس کی مرضی کی
زندگی تو سزا کی صورت ہے
میں بھی پتھر صدا بھی پتھر ہے
راہ، کوہِ ندا کی صورت ہے
سخت مٹی کو کچھ تو نرم کیا
مجھ میں کچھ تو گھٹا کی صورت ہے
قیوم طاہر