کسی نظر میں ستارہ سا جھلملایا تھا
پھر اس کے بعد مجھے کچھ نظر نہ آیا تھا
ترے حصار میں ہوں اور کچھ نہیں معلوم
خود آ گیا ہوں کہ تو نے مجھے بلایا تھا
ہوا کی نبض بھی تھم سی گئی تھی جب اس نے
پکڑ کے ہاتھ مجھے شہر میں گھمایا تھا
جسے نہ پانے کا افسوس ہے وہ اک لمحہ
ہزار بار مری دسترس میں آیا تھا
کئی زمانوں تلک ذہن میں سلگتا رہا
وہ اک خیال جسے واقعہ بنایا تھا
بہ فیضِ عشق ہوئی حدِ ممکنات عبور
مکاں سے پہلے ہمیں لامکاں دکھایا تھا
نظر کے سامنے کچھ تھا بصورت تعبیر
بہت دنوں میں کوئی خواب رنگ لایا تھا
جو دیکھتا تھا کسی اور کائنات کے خواب
تری گلی میں اسے کون کھینچ لایا تھا
بڑے ادب سے سمندر نے پاؤں چوم لئے
کسی کا نام کنارے پہ گنگنایا تھا
مشاعرے میں بھلا داد کیوں نہ دی جاتی
غزل میں زیست کو تصویر کر کے لایا تھا
سید انصر