MOJ E SUKHAN

عشق کا روگ اگر دل میں نہ پالے ہوتے

عشق کا روگ اگر دل میں نہ پالے ہوتے
آج آنکھوں میں نہ یہ درد کے نالے ہوتے

یہ جدائی کا زہر ہم کو نہ پینا پڑتا
راستے تھے ہاں مگر تم نے نکالے ہوتے

کاش دو وقت کا کھانا جو میسر ہوتا
ایک مجبور نے پتھر نہ اجالے ہوتے

ایسے بازار میں نیلام نہ ہوتے یوسف
سنگِ اسود کی طرح آپ جو کالے ہوتے

ہم شب و روز اگر دل نہ جلاتے اپنا
ان کی محفل میں کبھی یوں نہ اجالے ہوتے

گر نہ سکتے تھے کبھی ٹھوکریں کھا کر وشمہ
تم اگر ہم کو محبت سے سنبھالے ہوتے

وشمہ خان وشمہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم