MOJ E SUKHAN

زندگی میں وہ اب جمال کہاں

زندگی میں وہ اب جمال کہاں
سُر کہاں اور سُر میں تال کہاں

کن سرابوں کو چھو کے آئے ہو؟
چشمِ آہو کہاں ، غزال کہاں

یاد کرنے پہ یاد آتے ہیں !
ہیں ترے خواب اور خیال کہاں

ڈھونڈتی ہے نگاہِ شوق جنھیں
میرے یارانِ خوش خصال کہاں

جانے تم کس لئے پشیماں ہو !
عرض کیا اور عرضِ حال کہاں

ان کو دیکھے سے جو دھڑکتا تھا
دل کی دھڑکن میں اب دھمال کہاں

رات اب قمقموں سے روشن ہے
سر پہ تاروں بھرا وہ تھال کہاں

شائستہ مفتی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم