MOJ E SUKHAN

ڈوبنے والے کی میت پر لاکھوں رونے والے ہیں

ڈوبنے والے کی میت پر لاکھوں رونے والے ہیں
پھوٹ پھوٹ کر جو روتے ہیں وہی ڈبونے والے ہیں

کس کس کو تم بھول گئے ہو غور سے دیکھو بادہ کشو
شیش محل کے رہنے والے پتھر ڈھونے والے ہیں

سونے کا یہ وقت نہیں ہے جاگ بھی جاؤ بے خبرو
ورنہ ہم تو تم سے زیادہ چین سے سونے والے ہیں

آج سنا کر اپنا فسانہ ہم یہ کریں گے اندازہ
کتنے دوست ہیں ہنسنے والے کتنے رونے والے ہیں

میں بھی انہیں پہچان رہا ہوں غور سے دیکھو بادہ کشو
شاید شیخ حرم بیٹھے ہیں وہ جو کونے والے ہین

فنا نظامی کانپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم