MOJ E SUKHAN

شب ڈوب گئی

پھر گھور اماوس
رات میں کوئی
دیپ جلا
اک دھیمے دھیمے
سناٹے میں
پھول ہلا
کوئی بھید کھلا
اور بوسیدہ
دیوار پہ بیٹھی
یاد ہنسی
اک ہوک اٹھی
اک پتا ٹوٹا
سرسر کرتی ٹہنی سے
اک خواب گرا
اور کانچ کی
درزوں سے
کرنوں کا
جال اٹھا
کچھ لمحے سرکے
تاروں کی
زنجیر ہلی
شب ڈوب گئی

گلناز کوثر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم