MOJ E SUKHAN

کسی کی یاد کا چہرہ

کسی کی یاد کا چہرہ
مرے ویران گھر کی ادھ کھلی کھڑکی سے
جو مجھ کو بلاتا ہے
سمے کی آنکھ سے ٹوٹا ہوا تارا
جو اکثر رات کی پلکوں کے پیچھے جھلملاتا ہے
اسے میں بھول جاؤں گی
ملائم کاسنی لمحہ
کہیں بیتے زمانوں سے نکل کر مسکراتا ہے
کوئی بھولا ہوا نغمہ
فضا میں چپکے چپکے پھیل جاتا ہے
بہت دن سے کسی امید کا سایا
کٹھن راہوں میں میرے ساتھ آتا ہے
اسے میں بھول جاؤں گی
پرانی ڈائری کی شوخ تحریروں میں
جو اک نام باقی ہے
کسی منظر کی خوشبو میں رچی
جو راحت گمنام باقی ہے
ادھورے نقش کی تکمیل کا
جتنا بھی جو بھی کام باقی ہے
یہ جتنے دید کے لمحے
یہ جتنی شام باقی ہے
اسے میں بھول جاؤں گی
کسی کی یاد کا چہرہ
اسے میں بھول جاؤں گی
اسے میں بھول جاؤں گی
میں اکثر سوچتی تو ہوں
مگر وہ یاد کا چہرہ!!
مگر وہ ادھ کھلی کھڑکی

گلناز کوثر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم