MOJ E SUKHAN

منزلوں سے بیگانہ آج بھی سفر میرا

منزلوں سے بیگانہ آج بھی سفر میرا
رات بے سحر میری درد بے اثر میرا

گمرہی کا عالم ہے کس کو ہم سفر کہیے
تھک کے چھوڑ بیٹھی ہے ساتھ رہ گزر میرا

وہ فروغ خلوت بھی انجمن سراپا بھی
بھر گیا ہے پھولوں سے دامن نظر میرا

اب ترے تغافل سے اور کیا طلب کیجے
شوق نا رسا میرا عشق معتبر میرا

دور کم عیاری ہے کچھ پتہ نہیں چلتا
کون میرا قاتل ہے کون چارہ گر میرا

ناگزیر ہستی ہیں فصل گل کے ہنگامے
شوزش نمو تیری فتنۂ شرر میرا

کچھ بتاؤ تو آخر کیا جواب دوں اس کو
اک سوال کرتا ہے روز مجھ سے گھر میرا

آسماں کا شکوہ کیا وقت کی شکایت کیوں
خون دل سے نکھرا ہے اور بھی ہنر میرا

دل کی بے قراری نے ہوش کھو دیے تاباںؔ
ورنہ آستانوں پر کب جھکا تھا سر میرا

غلام ربانی تاباں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم