MOJ E SUKHAN

تھا ایک سایہ سا پیچھے پیچھے جو مڑ کے دیکھا تو کچھ نہیں تھا

تھا ایک سایہ سا پیچھے پیچھے جو مڑ کے دیکھا تو کچھ نہیں تھا
اب اپنی صورت کو دیکھتا ہوں کبھی جو صد پیکر آفریں تھا

وہ پھر بھی جاں سے عزیز تر تھا طبیعتیں گو جدا جدا تھیں
اگرچہ ہم زاد بھی نہیں تھا وہ میرا ہم شکل بھی نہیں تھا

میں رک سکوں گا ٹھہر سکوں گا تھکن سفر کی مٹا سکوں گا
کہیں تو کوئی شجر ملے گا تمام رستے یہی یقیں تھا

کئی چٹانیں گداز جسموں میں اپنی گرمی سے ڈھل گئی تھیں
بتوں کے قصے میں تیشہ کاروں کا تذکرہ بھی کہیں کہیں تھا

نہ جانے کیا دھند درمیاں تھی کہ کوہ کن کی نظر نہ پہنچی
جہاں سے پھوٹا تھا چشمۂ ماہ شب کا پتھر بھی تو وہیں تھا

میں اپنی آواز کے تعاقب میں ماورائے نظر بھی پہنچا
مگر پلٹ کر نہ اس نے پوچھا کہ میں خلا کے بہت قریں تھا

وہی مناظر لٹے لٹے سے وہی شکستہ مکان اخترؔ
میں روزمرہ کے راستے سے جو گھر میں پہنچا بہت حزیں تھا

اختر ہوشیار پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم