MOJ E SUKHAN

کیا ضروری ہے کوئی بے سبب آزار بھی ہو

کیا ضروری ہے کوئی بے سبب آزار بھی ہو
سنگ اپنے لیے شیشہ کا طلب گار بھی ہو

دلبری حسن کا شیوہ ہے مگر کیا کیجے
اب یہ لازم تو نہیں حسن وفادار بھی ہو

زخم جاں وقت کے کانٹوں سے بھی سل سکتا ہے
کیا ضروری ہے کہ ریشم کا کوئی تار بھی ہو

فاصلہ رکھیے دلوں میں مگر اتنا بھی نہیں
درمیاں جیسے کوئی آہنی دیوار بھی ہو

دو کناروں کی طرح ساتھ ہی چلتے رہئے
اب ضروری تو نہیں کوئی سروکار بھی ہو

کوئی اس درد کے رشتے کو نبھائے کیوں کر
چارہ سازی جو کرے وہ کوئی غم خوار بھی ہو

شیشۂ جاں کو بچانے کی یہ کوشش تنویرؔ
شاید اس شہر ستم کے لیے بے کار بھی ہو

تنویر احمد علوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم