MOJ E SUKHAN

اسے کہنا محبت کے خسارے کچھ نہیں کہتے

اسے کہنا محبت کے خسارے کچھ نہیں کہتے
اشاروں میں کرو باتیں اشارے کچھ نہیں کہتے

سنو بوڑھے درختوں کی حفاظت بھی ضروری ہے
وہ اپنی عمرِ آخر میں ہیں سارے کچھ نہیں کہتے

طلب جن کی محبت ہو جنھیں ملنا۔کسی سے ہو
انہیں پھر راہ میں بکھرے شرارے کچھ نہیں کہتے

سمندر کا یقیں یہ ہے مجھے صحرا سمیٹے گا
زمیں کو پانی یہ نمکین کھارے کچھ نہیں کہتے

فلک بےتاب ہے مہتاب جب کچھ دیر سے آیا
وہیں پر جو ٹکائے ہیں ستارے کچھ نہیں کہتے

ماہتاب دستی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم