MOJ E SUKHAN

کسی پناہ میں آئے نہ بے اماں چہرے

کسی پناہ میں آئے نہ بے اماں چہرے
بھٹک رہے ہیں نہ جانے کہاں کہاں چہرے

عجیب آگ تھی جس سے گزر کے آئے ہیں
یہ راکھ راکھ بدن اور دھواں دھواں چہرے

خموش رہنے کے سب نے حلف اٹھائے ہیں
نہ کہہ سکیں گے کبھی اپنی داستاں چہرے

شمار زخم کہاں تک لہو لہو ہیں اب
نہ دے سکیں گے کوئی اور امتحاں چہرے

منافقوں سے صبیحہ بچا کے محفل میں
بڑا سکون دلاتے ہیں مہرباں چہرے

صبیحہ خان صبیحہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم