MOJ E SUKHAN

اک نیند کی وادی سے گزارا گیا مجھ کو

اک نیند کی وادی سے گزارا گیا مجھ کو
پھر خواب کی دہلیز پہ مارا گیا مجھ کو

دل ہوں سو کسی چشم کے احسان ہیں سارے
ہاتھوں سے بنایا نہ سنوارا گیا مجھ کو

رکھ دی گئی پہلے مرے سینے میں وہ خوشبو
پھر عشق کے رنگوں سے نکھارا گیا مجھ کو

شمشیر حیدر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم