MOJ E SUKHAN

ان کی محفل میں فقط نقش بہ دیوار ہیں ہم

ان کی محفل میں فقط نقش بہ دیوار ہیں ہم
اس طرح بیٹھے ہیں جیسےکہ گنہ گار ہیں ہم

جو ہمارا ہے وہ رشتہ نہیں سمجھے گا کوئی
بس مقابل میں ترے آئنہ بردار ہیں ہم

حسرتیں دل کی پریشان کیے رکھتی ہیں
اپنے نا کردہ گناہوں میں گرفتار ہیں ہم

کم نظر دیکھ کے حیراں ہے یہ عالم اپنا
رقص کرتے ہوئے آتے جو سرِ دار ہیں ہم

ہم تو وہ ہیں جو بگڑ کر بھی سنور جاتے ہیں
لوگ کہتے ہیں کہ گرتی ہوئی دیوار ہیں ہم

کچھ خبر بھی تجھے اس کی ہے مرے دل کی خلش
اپنی ہستی سے بھی کچھ روز سے بیزار ہیں ہم

ہم کو شاہیں نہ رہی ہے کبھی مے کی حاجت
اپنے ہونے کے نشے سے ہی یوں سرشار ہیں ہم

شاہین برلاس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم