MOJ E SUKHAN

کوئی حسیں منظر آنکھوں سے جب اوجھل ہو جائے گا

Koi Haseen Manzar jab aankhoo say aujhal Ho jayee ga

غزل

کوئی حسیں منظر آنکھوں سے جب اوجھل ہو جائے گا
مجھ کو پاگل کہنے والا خود ہی پاگل ہو جائے گا

پلکوں پہ اس کی جلے بجھیں گے جگنو جب مری یادوں کے
کمرے میں ہوں گی برساتیں گھر جنگل ہو جائے گا

جس دن اس کی زلفیں اس کے شانوں پر کھل جائیں گی
اس دن شرم سے پانی پانی خود بادل ہو جائے گا

جب بھی وہ پاکیزہ دامن آ جائے گا ہاتھ مرے
آنکھوں کا یہ میلا پانی گنگا جل ہو جائے گا

اس کی یادیں اس کی باتیں اس کی وفائیں اس کا پیار
کس کو خبر تھی جینا مشکل ایک اک پل ہو جائے گا

مت گھبرا اے پیاسے دریا سورج آنے والا ہے
برف پہاڑوں سے پگھلی تو جل ہی جل ہو جائے گا

طاہر فراز

Tahir Faraz

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم