Shoor Pazeeb Ka hota hay Kidher Shaam ky baad
غزل
شور پازیب کا ہوتا ہے کدھر شام کے بعد
"کتنے چپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد”
دور جاتے ہو کبھی تم جو صنم مجھ کو لگے
سونا سونا سا مرا عشق نگر شام کے بعد
مسکراہٹ کی تھی آواز رچی کانوں میں
ڈھونڈتی رہتی ہے اب میری نظر شام کے بعد
دیپ میں خون جگر سے ہی جلاؤں جانم
مجھ سے ملنے جو چلی آئے گی گھر شام کے بعد
کیوں بہانے کیے جاتے ہو خبر ہے ہم کو
ساتھ ہوتے ہو رقیبوں کے مگر شام کے بعد
جام نظروں سے پلاتے ہیں ہمیں بھر بھر کے
پھر نہ آتی کوئی اپنی ہے خبر شام کے بعد
چھوڑ معصوم چلا جائے گا آنگن تیرا
پھر تو معلوم تمہیں ہو گی قدر شام کے بعد
انعام الحق معصوم صابری
Inamul Haq Masoom Sabri