Kab Say laboon pay Saqi Tra Naam hi to Hay
غزل
کب سے لبوں پہ ساقی ترا نام ہی تو ہے
طالب نظر کا تیری لگے جام ہی تو ہے
مدحت سرائی میں کروں سرکار ﷺ کی فقط
سارے جہاں میں اچھا یہی کام ہی تو ہے
ہو گی سحر طلوع بہت ہے یقیں مجھے
"لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے”
کب سے رقیب کو ہی تکے جا رہے ہیں آپ
جانب ادھر بھی دیکھیے انعام ہی تو ہے
خواہش مری بڑی تھی رہوں پاس بس ترے
قدموں میں بیٹھنا ترے اکرام ہی تو ہے
معصوم خوش نصیب ہے ہر وقت ، جان لے
ان کے لبوں پہ صرف ترا نام ہی تو ہے
گھبراؤ تم نہیں کبھی آئیں گے اچھے دن
معصوم بس یہ گردش ایام ہی تو ہے
انعام الحق معصوم صابری
Inam ul Haq Masoom Sabri