Teergi ik gumaa Khyaaloo ka
غزل
تیرگی اک گماں خیالوں کا
روشنی ہے یقیں اُجالوں کا
یار اب تو کوئی بھروسہ نہیں
دشمنوں، گودیوں کے پالوں کا
کون بیٹھا ہے یہ پسِ دیوار
خون کرتا ہے جو سوالوں کا
ان سے مفلس کا پیٹ کیسے بھرے
کیا کرے گا وہ ان مقالوں کا
یار تم اپنی گفتگو دیکھو
کیسے آئے جواب نالوں کا
دیکھنا جب کھلے گا حالِ زار
خوش جمالوں پہ، ہم غزالوں کا
چومتے ہیں تمہارے گالوں کو
کچھ کرو یار اپنے بالوں کا
خون بہتا رہا مساجد میں
قتل ہوتا رہا شوالوں کا
ٹوٹ جائے گا اب درِ زنداں
کھل گیا بھید ان کی چالوں کا
اک حویلی کی اوٹ میں حامیؔ
ڈھل گیا بخت سب اجالوں کا
حمزہ حامیؔ
Hamza Haami