MOJ E SUKHAN

زمیں پر آسمانوں سے زمانوں کے انعام آئے۔

Zameen per Aasmanoo say zamanoo kay Inaam Aayee

نعتِ نبی صلی اللہ علیہ والیہ وسلم

زمیں پر آسمانوں سے زمانوں کے انعام آئے۔
محمد مصطفیٰ خیر الورٰی خیرالانام آئے۔

وہ جنکے واسطے مقبول آدم کی ہوئی توبہ
شفیع المذنبیں خیرالبشر خیرالدوام آئے۔

زمیں سے آسماں تک ظلم کا عالم جواں تھا تب،
جمیع عالم کو سمجھانے حلال آئے حرام آئے۔

خدا نے جن کی خاطر کی خدائی اپنی ظاہر وہ،
معظم محترم ذی محتشم قادر کلام آئے۔

عرب سارا عجم جملہ خلائق انکے تابع ہیں،
رسولوں انبیاؤں اور جہانوں کے امام آئے.
 
نہ سبقت گورے کالے کو معزز متقی ٹھہرے،
بدلنے آقا نسلوں کے وہ فرسودہ نظام آئے۔

ہوا کی بیٹیاں زندہ دفن ہونے نہ دینگے اب،
محمد سرکشوں کو ڈالنے ایسا لغام آئے۔

تقاضائے بشر تھی اس لئے بشری لبادے میں،
نبی نور الھدی’ اللہ کا لیکر پیام ائے۔

 تمنا ہے کہ میں بھی با ادب اک بار ہو آؤں،
فرشتے بھی جہاں آئے تو بنکر بس خدام آئے۔

صبح سے شام تک صلی علیٰ صلی علیٰ اور بس،
یہی پڑہتے رہو جو حشر میں بھی تیرے کام آئے۔

سلام اس پاک ہستی پر درود اس پاک ہستی پر،
جنہیں جبریل کرنے بارہا دن میں سلام آئے۔

مجدد ہم پہ لازم ہے ادب اس پاک ہستی کا،
جہاں اللہ کے پیغام بھی صد احترام آئے.

پیر غلام مجدد سرہندی مجدد

Peer Ghulam Mujadid Sarhandi

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم