MOJ E SUKHAN

رسوا کیا شعور کو دانائی چھین لی

Ruswa kia shaoor ko Daanaai Cheen li

غزل

رسوا کیا شعور کو دانائی چھین لی
جہل خرد نے آنکھوں سے بینائی چھین لی

سانسوں میں گونجتی ہوئی شہنائی چھین لی
شہروں نے مجھ سے گاؤں کی پروائی چھین لی

اس طرح بھی بدلتے ہیں نظروں کے زاویے
خود خواب ہی نے خواب کی رعنائی چھین لی

روحوں کی مفلسی نے بہرحال ایک دن
چہرہ آئنوں سے خوئے شناسائی چھین لی

ہونٹ آئنوں کے یونہی نہیں ہیں سلے ہوئے
ارزانیٔ جمال نے گویائی چھین لی

فطرت کا یہ تضاد عجیب و غریب ہے
تنہائی دینے والے نے تنہائی چھین لی

قیصر صدیقی

Qaiser siddiqui

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم