MOJ E SUKHAN

جھوٹی محبتوں کی ضرورت نہیں پڑی

جھوٹی محبتوں کی ضرورت نہیں پڑی
مصنوعی چاہتوں کی ضرورت نہیں پڑی

چاہت کا خوں کیا تو لکھی داستانِ شوق
ناکام حسرتوں کی ضرورت نہیں پڑی

بیٹھے رہے رقیب کے پہلو میں مطمئن
بے جا مروتوں کی ضرورت نہیں پڑی

رقصاں ہوں آج بن کے بگولہ سا دشت میں
صد شکر وحشتوں کی ضرورت نہیں پڑی

شہرِ وفا میں سینکڑوں غدار مل گئے
اس سال ہجرتوں کی ضرورت نہیں پڑی

اللہ ہمارے ساتھ تھا ہم کو جنابِ شیخ
بشری کرامتوں کی ضرورت نہیں پڑی

دشمن لگانے آگئے ضربِ دگر خلش
اس بار دوستوں کی ضرورت نہیں پڑی

سہیل ضرار خلش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم