دوستوں سے مری لڑائی ہے
دشمنوں نے خبر اڑائی ہے
ہارتے ہارتے بھی جیتوں گا!!
عشق اعصاب کی لڑائی ہے
کون مرنے سے ڈر رہا ہے جناب
نیند تو بھوک نے اڑائی ہے
وصل کی خوشنما انگھوٹی میں
پتھرِ ہجر کی جڑائی ہے
پھر وفاشعار کہ کے تنگ نہ کر
مشکلوں سے تو جاں چھڑائی ہے
یہ خلش نفسیاتی مسئلہ ہے
عشق میں کون سی بڑائی ہے
سہیل ضرار خلش