MOJ E SUKHAN

سینے میں دکھن ناک میں طوفان سا کیوں ہے

سینے میں دکھن ناک میں طوفان سا کیوں ہے
نزلےسےہراک شخص پریشان سا کیوں ہے

چھترول کی یہ کون سی منزل ہے پلسیو
آئینہ ہمیں دیکھ کے حیران سا کیوں ہے

چھیناہےجومجھ سے وہ موبائل ہے کھلونا
ڈاکواسےاب دیکھ کے حیران سا کیوں ہے

تھا ساٹھ برس پہلے جوگھرکوہ مری سا
وہ آج مرے واسطے ملتان سا کیوں ہے

عاصی پہ ہی کیوں بھونکتا ہے باس ہمیشہ
حیوان بھی اس دور میں انسان سا کیوں ہے

مرزا عاصی اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم