زباں تو چپ ہی رہے گی بڑے وقار کے ساتھ
پہ حال اشک سنائیں گے اختصار کے ساتھ
نہاں ہیں دل میں محبت فسانے تیرے تمام
یہ عمر گزری ہے لیکن ترے ہی پیار کے ساتھ
ہوئی ہے ان سے ملا قات بعد مدت کے
کھلے ہیں پھو ل نئے موسم بہا ر کے ساتھ
چھپا کے رکھے ہیں آنکھو ں میں دید کے لمحے
سجا کے رکھے ہیں سپنے اُسی خمار کے ساتھ
ا گرچہ داغ ہیں دل پر شکست کے شاہیں
کریں گے پیار اُسی شخص سے وقار کے ساتھ
شاہین بر لاس