MOJ E SUKHAN

ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے

ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے
کہ نخل خشک پہ ماہ تمام آخری ہے

میں جس سکون سے بیٹھا ہوں اس کنارے پر
سکوں سے لگتا ہے میرا قیام آخری ہے

پھر اس کے بعد یہ بازار دل نہیں لگنا
خرید لیجئے صاحب غلام آخری ہے

گزر چلا ہوں کسی کو یقیں دلاتا ہوا
کہ لوح دل پہ رقم ہے جو نام آخری ہے

تبھی تو پیڑ کی آنکھوں میں چاند بھر آیا
کسی نے کہہ دیا ہوگا کہ شام آخری ہے

یہ لگ رہا ہے محبت کے پہلے زینے پر
کہ جس مقام پہ ہوں یہ مقام آخری ہے

کسی نے پھر سے کھڑے کر دیے در و دیوار
خیال تھا کہ مرا انہدام آخری ہے

ہمارے جیسے وہاں کس شمار میں ہوں گے
کہ جس قطار میں مجنوں کا نام آخری ہے

شروع عشق میں ایسی اداسیاں تابشؔ
ہر ایک شام یہ لگتا ہے شام آخری ہے

(عباس تابش)

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم