MOJ E SUKHAN

سب ستارے لٹا دیۓ میں نے

سب ستارے لٹا دیۓ میں نے
اشک سارے بہادیۓ میں نے

ایک اُس شخص کے لیۓ خود کو
روگ کیا کیا لگا دیۓ میں نے

کیوں دعا عرش تک نہیں جاتی
بام و در تک ہلا دیۓ میں نے

اُس نے بے ساختہ کہا بارش
اور آنسو بہا دیۓ میں نے

دل کو ہر بار توڑ جاتا تھا
قفل اُس پر لگا دئیے میں نے

جس نے سن کر بھی ان سنی کردی
درد اُس کو سُنا دئیے میں نے

جب جہاں جس پہ راج کر ڈالے
پیار منتر سِکھا دیئے میں نے

عشق تازہ کی حدتیں، توبہ
خط پرانے جلا دیئے میں نے

اپنے مطلب سے جو ملے ہر دم
وہ بھی رشتے نبھا دیئے میں نے

تاجور عشق کا تقاضہ تھا
غم اُٹھا کر چُھپا دیئے میں نے

تاجورشکیل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم