MOJ E SUKHAN

غیر کے ساتھ کبھی ذکر ہمارا نہ کریں

غزل

غیر کے ساتھ کبھی ذکر ہمارا نہ کریں
ہم کو بد نام کریں عشق کو رسوا نہ کریں

دل یہ کہتا ہے مقدر ہے پریشاں رہنا
عقل کہتی ہے کہ ہم زلف کا سودا نہ کریں

کیا ضرورت ہے بلا ان کی سنوارے گیسو
اک نظر دیکھ لیں جس کو اسے دیوانہ کریں

کیا نہیں جانتے ہم رنگ تلون ان کا
مہرباں پائیں بھی تو عرض تمنا نہ کریں

بیخودؔ زار کو اب دیکھ کے جھک جاتی ہیں
وہ نگاہیں جو کبھی پاس کسی کا نہ کریں

عباس علی خان بیخود

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم