MOJ E SUKHAN

ایسا بننا سنورنا مبارک تمہیں کم سے کم اتنا کہنا ہمارا کرو

غزل

نصرت فتح علی خان نے اس غزل کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا

 

ایسا بننا سنورنا مبارک تمہیں کم سے کم اتنا کہنا ہمارا کرو
چاند شرمائے گا چاندنی رات میں یوں نہ زلفوں کو اپنی سنوارا کرو

یہ تبسم یہ عارض یہ روشن جبیں یہ ادا یہ نگاہیں یہ زلفیں حسیں
آئنے کی نظر لگ نہ جائے کہیں جان جاں اپنا صدقہ اتارا کرو

دل تو کیا چیز ہے جان سے جائیں گے موت آنے سے پہلے ہی مر جائیں گے
یہ ادا دیکھنے والے لٹ جائیں گے یوں نہ ہنس ہنس کے دلبر اشارہ کرو

فکر عقبیٰ کی مستی اتر جائے گی توبہ ٹوٹی تو قسمت سنور جائے گی
تم کو دنیا میں جنت نظر آئے گی شیخ جی مے کدے کا نظارہ کرو

خوب صورت گھٹاؤں بھری رات میں لطف اٹھایا کرو ایسی برسات میں
جام لے کر چھلکتا ہوا ہاتھ میں مے کدے میں بھی اک شب گزارا کرو

کام آئے نہ مشکل میں کوئی یہاں مطلبی دوست ہیں مطلبی یار ہیں
اس جہاں میں نہیں کوئی اہل وفا اے فناؔ اس جہاں سے کنارہ کرو

فنا نظامی کانپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم