MOJ E SUKHAN

نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالے

غزل

نصرت فتح علی خان کی آواز کے خزانے سے لبریز غزل

 

نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالے
کہو کوئی کیسے محبت چھپا لے

کرے کوئی کیا گر وہ آئیں یکایک
نگاہوں کو روکے کہ دل کو سنبھالے

چمن والے بجلی سے بولے نہ چالے
غریبوں کے گھر بے خطا پھونک ڈالے

قیامت ہیں ظالم کی نیچی نگاہیں
خدا جانے کیا ہو جو نظریں اٹھا لے

کروں ایسا سجدہ وہ گھبرا کے کہہ دیں
خدا کے لیے اب تو سر کو اٹھا لے

تمہیں بندہ پرور ہمیں جانتے ہیں
بڑے سیدھے سادھے بڑے بھولے بھالے

بس اتنی سی دوری یہ میں ہوں یہ منزل
کہاں آ کے پھوٹے ہیں پاؤں کے چھالے

قمرؔ میں ہوں مختار تنظیم شب کا
ہیں میرے ہی بس میں اندھیرے اجالے

استاد قمر جلالوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم