MOJ E SUKHAN

امید کا دامن تو مرا چاک نہ کرنا

غزل

امید کا دامن تو مرا چاک نہ کرنا
یوں مجھ پہ ستم اے دل سفاک نہ کرنا

تاریکئ شب ہے مرا پہلے سے مقدر
اور تم بھی اندھیرے مری املاک نہ کرنا

یہ زخم انا کافی ہے اے یوسف دوراں
اب چشم زلیخا کو تو نمناک نہ کرنا

جب نیندیں بچھڑ جائیں تو آ جاتی ہیں یادیں
اس خواب نگر کو پس افلاک نہ کرنا

بیٹھی ہوں امیدوں پہ بہارؔ آئے گی شاید
یوں آس جزیرے کو تہ خاک نہ کرنا

بہار النساء بہار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم