MOJ E SUKHAN

زندگی کتنی خوش گوار ہے آج

غزل

زندگی کتنی خوش گوار ہے آج
ہر طرف موسم بہار ہے آج

نگہ شوق کو قرار ہے آج
جلوۂ حسن آشکار ہے آج

دل کا ہر زخم آج روشن ہے
کتنا پر سوز انتظار ہے آج

ان کی تصویر بات کرتی ہے
ہجر کی شب بھی سازگار ہے آج

کیفیت دل کی پوچھتے ہو کیا
محو دیدار حسن یار ہے آج

تذکرہ کل کا کیا مقدر ہے
ان کی باتوں پہ اعتبار ہے آج

کیا رہا لطف دردؔ جینے میں
بیکلی ہے نہ اضطرار ہے آج

عبدالمجید درد بھوپالی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم