MOJ E SUKHAN

غزل

 

روح کو راحت ہوئی غم دور سارا ہو گیا
کون میرے دل میں یا رب جلوہ آرا ہو گیا

جب جدا مجھ سے وہ میرا ماہ پارہ ہو گیا
روشنی جاتی رہی اندھیر سارا ہو گیا

رسم و رہ ایسی بڑھاؤ جس سے سب آگاہ ہوں
تم ہمارے ہو گئے اور میں تمہارا ہو گیا

میں جو کہتا تھا کہ مجھ سے ضبط ہو سکتا نہیں
راز فاش آخر تمہارا اور ہمارا ہو گیا

تیر مژگاں اس نے جب سیدھا کیا میری طرف
دل مشبک ہو گیا سینہ دو پارہ ہو گیا

کیا لگے دل قمری و شمشاد و گل کا باغ میں
ان کو تیری قامت و رخ کا نظارا ہو گیا

 

عبدالمجید خواجہ شیدا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم