غزل
اے فلک یہ کیا ہوا اپنا یگانہ پھر گیا
تو اکیلا کیا پھرا سارا زمانہ پھر گیا
تھی خوشی آنے کی ان کے آتے آتے رہ گئے
بخت برگشتہ بجا کر شادیانہ پھر گیا
کھاتے تھے انگور پیتے تھے شراب ارغواں
ہائے وہ ساقی پھرا کیا آب و دانہ پھر گیا
وائے ناکامی رہے محروم وصل یار سے
اپنے گھر آیا بھی اور کر کے بہانہ پھر گیا
اے مغنی اس تری آواز دل کش کے حضور
گل ہیں سینہ چاک بلبل کا ترانہ پھر گیا
کوچۂ گیسو میں جب پہنچا دل وحشت زدہ
روبرو آنکھوں کے اپنی قید خانہ پھر گیا
کہتے ہیں خلخال پائے یار کے وقت خرام
حشر پھر ہوگا بپا گر اک بھی دانہ پھر گیا
اڑ گیا جب توسن جذب اپنا ان کے ہجر میں
کی نہ جنبش اس نے روئے تازیانہ پھر گیا
تیری نظروں سے گرا جب سے کوئی پرساں نہیں
تو پھرا شیداؔ سے کیا سارا زمانہ پھر گیا
عبدالمجید خواجہ شیدا