MOJ E SUKHAN

میری ہر بات پہ بے بات خفا ہوتے ہو

غزل

میری ہر بات پہ بے بات خفا ہوتے ہو
جانے کیا بات ہے دن رات خفا ہوتے ہو

چپ رہیں وقت ملاقات خفا ہوتے ہو
پوچھ لیں بھول سے حالات خفا ہوتے ہو

بات غیروں سے تو ہنس ہنس کے کیا کرتے ہو
ہم سے ہوتے ہی ملاقات خفا ہوتے ہو

دور ہوتے ہو تو ناراض رہا کرتے ہو
پاس رہتے ہو تو دن رات خفا ہوتے ہو

جانتا ہوں کہ تمہیں پیار نہیں ہے مجھ سے
کیا بہ مجبورئ حالات خفا ہوتے ہو

بی ایس جین جوہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم