MOJ E SUKHAN

سمندر کا تماشہ کر رہا ہوں

غزل

سمندر کا تماشہ کر رہا ہوں
میں ساحل بن کے پیاسا مر رہا ہوں

اگرچہ دل میں صحرائے تپش ہے
مگر میں ڈوبنے سے ڈر رہا ہوں

میں اپنے گھر کی ہر شے کو جلا کر
شبستانوں کو روشن کر رہا ہوں

وہی لائے مجھے دار و رسن پر
میں جن لوگوں کا پیغمبر رہا ہوں

وہی پتھر لگا ہے میرے سر پر
ازل سے جس کو سجدے کر رہا ہوں

تراشے شہر میں نے بخشؔ کیا کیا
مگر خود تا ابد بے گھر رہا ہوں

بخش لائلپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم