MOJ E SUKHAN

محبت چھوڑ دی ہم نے محبت تھی سزا جیسی

غزل

محبت چھوڑ دی ہم نے محبت تھی سزا جیسی
اسی کو چاہتے تھے ہم وہ چاہت تھی دعا جیسی

یہ جو اک زخم دل ہے یہ دیا بن کر چمکتا ہے
یہ جو اک ٹیس ہے فرقت میں ہے مجھ کو ضیا جیسی

میں اپنے سامنے ہوتی ہوں آئینہ اٹھا کر جب
کوئی لائے ذرا تمثیل میری اس ادا جیسی

محبت چاند ہے اور چاندنی ہر سو لٹاتی ہے
محبت ہے غم و آلام میں اٹھتی صدا جیسی

عجب وحشت کدہ سا ہے دل مغموم کے اندر
ہر اک صورت ہے جس میں درد کی مجھ کو بلا جیسی

دعا علی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم