غزل
محبت چھوڑ دی ہم نے محبت تھی سزا جیسی
اسی کو چاہتے تھے ہم وہ چاہت تھی دعا جیسی
یہ جو اک زخم دل ہے یہ دیا بن کر چمکتا ہے
یہ جو اک ٹیس ہے فرقت میں ہے مجھ کو ضیا جیسی
میں اپنے سامنے ہوتی ہوں آئینہ اٹھا کر جب
کوئی لائے ذرا تمثیل میری اس ادا جیسی
محبت چاند ہے اور چاندنی ہر سو لٹاتی ہے
محبت ہے غم و آلام میں اٹھتی صدا جیسی
عجب وحشت کدہ سا ہے دل مغموم کے اندر
ہر اک صورت ہے جس میں درد کی مجھ کو بلا جیسی
دعا علی