MOJ E SUKHAN

یہ داڑھیاں یہ تلک دھاریاں نہیں چلتیں

غزل

یہ داڑھیاں یہ تلک دھاریاں نہیں چلتیں
ہمارے عہد میں مکاریاں نہیں چلتیں

قبیلے والوں کے دل جوڑئیے مرے سردار
سروں کو کاٹ کے سرداریاں نہیں چلتیں

برا نہ مان اگر یار کچھ برا کہہ دے
دلوں کے کھیل میں خودداریاں نہیں چلتیں

چھلک چھلک پڑیں آنکھوں کی گاگریں اکثر
سنبھل سنبھل کے یہ پنہاریاں نہیں چلتیں

جناب کیفؔ یہ دلی ہے میرؔ و غالبؔ کی
یہاں کسی کی طرف داریاں نہیں چلتیں

کیف بھوپالی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم