MOJ E SUKHAN

بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہے

غزل

بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہے
میرے کسی پہلو میں قضا ہے کہ نہیں ہے

سنتا ہوں اک آہٹ سی برابر شب وعدہ
جانے ترے قدموں کی صدا ہے کہ نہیں ہے

سچ ہے کہ محبت میں ہمیں موت نے مارا
کچھ اس میں تمہاری بھی خطا ہے کہ نہیں ہے

مت دیکھ کہ پھرتا ہوں ترے ہجر میں زندہ
یہ پوچھ کہ جینے میں مزہ ہے کہ نہیں ہے

یوں ڈھونڈتے پھرتے ہیں مرے بعد مجھے وہ
وہ کیفؔ کہیں تیرا پتہ ہے کہ نہیں ہے

کیف بھوپالی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم