MOJ E SUKHAN

کبھی ہوا تو کبھی خاک رہ گزر ہونا

غزل

کبھی ہوا تو کبھی خاک رہ گزر ہونا
مرے نصیب میں لکھا ہے در بہ در ہونا

اگر چلو تو مرے ساتھ ہی چلو لیکن
کٹھن سفر سے زیادہ ہے ہم سفر ہونا

اداس اداس یہ دیوار و در بتاتے ہیں
کہ جیسے راس نہ ہو ان کو میرا گھر ہونا

قدم اٹھے بھی نہیں اور سفر تمام ہوا
غضب ہے راہ کا اتنا بھی مختصر ہونا

یہ دور کم نظراں ہے تو پھر ہنر کا زیاں
جو ایک بار نہ ہونا تو بیشتر ہونا

پیرزادہ قاسم رضا صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم