MOJ E SUKHAN

گاڑیوں سے نہ تیری کوٹھیوں سے

غزل

گاڑیوں سے نہ تیری کوٹھیوں سے
دنیا چلتی ہے چند روٹیوں سے

دل میں آئے کوئی کھری عورت
یہ کنواں بھر گیا ہے کھوٹیوں سے

آپ کو خوف ہے نشیبوں کا
میں گرا ہوں بلند چوٹیوں سے

پیار عنقا ہے جب جہاں سے ملے
گوریوں کالیوں کلوٹیوں سے

آخری انجمن سجاؤں گا
نئے یاروں سے اور لنگوٹیوں سے

مہرباں سی دعا سلام اکرامؔ
بڑی بہنوں کی جیسے چھوٹیوں سے

اکرام عارفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم